قصور وار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خطا وار، گنہگار، قابل الزام۔ "کون ہے جو قصُور وار نہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، آ جاؤ افریقہ، ١٣٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قصور' کے ساتھ فارسی لاحقۂ فاعلی 'وار' لگانے سے مرکب 'قصور وار' بنا۔ سب سے پہلے ١٨٧٤ء کو "گلزار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خطا وار، گنہگار، قابل الزام۔ "کون ہے جو قصُور وار نہیں۔"      ( ١٩٨٧ء، آ جاؤ افریقہ، ١٣٣ )